
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے نے سرحد پار ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شاید اب پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔
آئی سی سی کی میٹنگ اور بھارتی دعوے
بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے کے بعد آئی سی سی کا ایک اہم ورچوئل اجلاس بلایا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ابھی تک باضابطہ طور پر آئی سی سی کو اپنے فیصلے سے تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا، لیکن بھارتی میڈیا پہلے سے ہی یہ خبریں پھیلا رہا ہے کہ اس اجلاس میں پاکستان کی ٹورنامنٹ میں شرکت پر پابندی لگانے پر غور ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو دھمکانے کی کوشش
بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کو مالی اور انتظامی طور پر نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق:
- پاکستان پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
- مستقبل کے ٹورنامنٹس کے لیے پاکستانی ٹیم پر پابندی لگ سکتی ہے۔
- کرکٹ کے بڑے ممالک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلنے سے انکار کر سکتے ہیں۔
- یہاں تک کہ پی ایس ایل (PSL) میں کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی پاکستان آنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اصل صورتحال کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے قومی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے، لیکن واضح کیا ہے کہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں پاکستان میدان میں نہیں اترے گا۔ یاد رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کا میلہ 6 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا کے میدانوں میں سجنے والا ہے۔
بھارتی میڈیا اس صورتحال کو براڈ کاسٹرز کے نقصان سے جوڑ کر آئی سی سی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔